Deep Heart Touching Urdu Ghazals in Text | Urdu Ghazals Collection
Deep Heart Touching Urdu Ghazals in Text
Deep Heart Touching Urdu Ghazals in Text refer to love letters, love poems, and all other types of poems that have to do with love. One thing that is not just a part of our lives but also the lovely essence of humanity is love. Numerous poets have been able to move millions of people with their ability to express emotions.
Read More: Heart Touching Deep Ghazals
Deep Heart Touching Urdu Ghazals
![]() |
| Deep Ghazals in Urdu text |
کسی کی موت کا جو وقت ہے وہ ٹل نہ پائے گا
جو خالی ہاتھ آیا ہے وہ خالی ہاتھ جائے گا
کسی کی آرزو دنیا میں پوری ہو نہیں سکتی
جو خود عاجز ہو وہ اوروں کے کیا کام آئے گا
چلے گا آخرت میں وہ ہی سکّہ جو ہو نیکی کا
جو ہوگا کھو ٹا سکٔہ وہ تو بدنامی دٍلائے گا
جو کچھ دنیا میں ہے وہ سب فنا اک دن ہو جائے گا
جو توشہ آخرت کا ہوگا وہ ہی رنگ لائے گا
ذرا دیکھو جہاں سے شان والے مٹ گئے کتنے
نہ اُن کا نام باقی ہے کوئی اب کیوں ستائے گا
رہے گی ذات باقی اک خدا کی اور سب فانی
اُسی سے لو لگانا ہم سبھی کا غم مٹائے گا
جہاں میں اثر کو بس آخرت کی فکر ہوجائے
اسی میں عقلمندی ہے یہی سکھ سے ملائے گا
Heart Touching Urdu Ghazals Collection
![]() |
| Heart Touching Urdu Ghazals Collection |
صدائیں حق کی لگا کے ہم نے سِتم گروں کو رٌلا دیا
جو ٹمٹماتے چراغِ حق تھے اٌنہیں پھر روشن کرا دیا
ملے نہ کوئی کہیں بھی مظلوم یہی ہے اپنی آرزو
کوئی بھی مظلوم مل گیا بھی تو اُس کا حق ہی دِلا دیا
چمن میں اپنے عزیز گل ہو تو کانٹوں سے بھی نباہ ہو
کہ غم زدہ کے تو آنسو پونچھے اٌسی کی خوشیاں بڑھا دیا
جہاں میں جتنے ہوئے ستم گر کوئی پکڑ سے نہ بچ سکا
لگے جو ٹھوکر سنبھل ہی جائیں سبق یہ سب کو پڑھا دیا
نہ کوئی تکلیف ہو کسی کو اسی کی کوشش تو اپنی ہو
کبھی کسی کی نہ آہ نکلے یہ خود پہ لازم بنادیا
کبھی زمانہ بھی روٹھ جائے تو اثر مغموم کیوں ہی ہو
رہا ہمیشہ وہ حق پہ قائم اُسی نے غم کو مٹا دیا
Read More: Heart Touching Ghazals in Urdu text
Best Ghazals in Urdu text
![]() |
| Best Ghazals in Urdu text |
کسی کے درد سے یہ دل کبھی معمور ہوجائے
اٌسی سے زندگی پُرکیف اورمسرور ہوجائے
کبھی اے دل کہیں اپنا غمِ الفت عیاں نہ ہو
اگرچہ دل بھی اپنا زخموں سے بس چور ہوجائے
طبیبوں کو بھی نہ کچھ مرض کا اپنے پتہ چلتا
یہ ممکن ہی نہیں کہ درد بھی کافور ہوجائے
چلا ہوں بے خبر میں منزلِ جاناں کی ہی جانب
میری منزل نہیں آساں پر مشکل دور ہو جائے
جو اربابِ ستم ہیں جان لیں اِس کو بخوبی بس
کبھی اٌن پر کوئی بھی وار ہی بھرپور ہوجائے
کبھی بے کس ملے کوئی کبھی مضطر دِکھے کوئی
تو اٌن کے ساتھ شفقت اور جو کچھ مقدور ہوجائے
یہی تو اثر نے سیکھا کہ آئیں کام اوروں کے
نہ اوروں کا زیاں اُس کو کبھی منظور ہوجائے



Post a Comment